سست اعتقادی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ضعیف الاعتقاد ہونا، عقیدے کی کمزوری، مسلک میں کمزوری ہونا۔ "سست اعتقادی بھی تو کتنی، بھلا آج تک کسی نے یہ بھی سنا ہے کہ مردہ قبر توڑ کے نکل آئے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٥٨:٤ )

اشتقاق

فارسی اور عربی زبان سے ماخوذ مرکب 'سست اعتقاد' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٨٠ء سے "فسانہ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ضعیف الاعتقاد ہونا، عقیدے کی کمزوری، مسلک میں کمزوری ہونا۔ "سست اعتقادی بھی تو کتنی، بھلا آج تک کسی نے یہ بھی سنا ہے کہ مردہ قبر توڑ کے نکل آئے۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٥٨:٤ )

جنس: مؤنث